امام احمد رضا خان بریلوی اکانومسٹ تھے یا نہیں؟

Rate this post

27 فروری 2019 کو جب بالاکوٹ حملے کی ریٹیلیشن میں پاکستان نے ہندوستان کے دو لڑاکا طیارے مار گرائے تو ہندوستان طیش میں آ گیا۔ بات میزائل لانچنگ اور پاکستان کو نیست و نابود کرنے سے شروع ہوتی ہے اور

 آخر میں آکر “پاکستان کو ٹماٹر کی سپلائی” بند کرنے پر رکتی ہے۔ بظاہر ایک عام آدمی کیلئے یہ نہایت مضحکہ خیز بات ہے لیکن غور کریں کہ ازل سے ابد تک جنگوں کا فیصلہ ہتھیاروں اور معاشی استحکام دونوں کے مرہون منت ہوتا ہے۔ مشہور ملٹری اسٹریٹجسٹ کلازوٹز کہتا ہے، War is an instrument of policy، یعنی جنگ ایک پالیسی ساز ہتھیار ہے۔ یوں کلازوٹز کا یہ قول اب نامکمل ثابت ہوا۔

آیئے اب زرا پچھلی صدی کے مجدد اعلی حضرت امام احمد رضا خان کے معاشی افکار پر روشنی ڈالتے ہیں۔

1912ء میں امت مسلمہ کے لیئے اعلیٰ حضرت کی بےحد قیمتی معاشی راہنمائی کو ہم مسلمانوں بڑی بےدردی سے رد کیا۔

اور شاید آج مسلمانوں کا کشمیر سے فلسطین تک جو حشر ہو رہا ہے اس کی بڑی وجہ اپنے اسلاف کی تعلیمات کی ناقدری ہے۔

1857ء کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد جہاں مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا، وہاں برطانوی سامراج کا ہندوستان پر مکمل تسلط قائم ہو گیا۔ مسلمان اب غربت، اخلاقی پستی، اور تعلیمی انحطاط کا شکار تھے۔ مسلمان مفکروں نے سیاسی، تعلیمی اور معاشرتی میدانوں میں تو کام کیا لیکن ان سب کی جڑ یعنی مسلمانوں کی معاشی راہنمائی کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا۔

 1912ء میں اپنے رسالے “تدبیر فلاح و نجات و اصلاح” میں اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں “مسلمان صرف مسلمانوں سے اشیاء کی خریداری کریں، باقی کسی کے ساتھ تجارت نہ کریں”۔

اس مختصر مگر جامع نصیحت کو سمجھنے کے لیئے میں نے پروفیسر رفیع اللہ صدیقی کی کتاب “Economic Guide lines for Muslims by Ala Hazrat” سے استفادہ کیا۔

بین الاقوامی تجارت میں آزاد منڈی (Free Trade) ٹھیک ہے یا محفوظ تجارت (Protected Trade)؟

 یہ ایک بہت پرانی بحث ہے۔

▪️آزاد منڈیاں (Free Trade):-

ایڈم اسمتھ جس کو “فادر آف اکانومی” کہا جاتا ہے آزاد منڈیوں یعنی Free trade کا حامی تھا، جس کا اس نے برملا اظہار 1776 میں اپنی کتاب، An Inquiry into wealth of nations میں کیا۔

▪️محفوظ تجارت (Protected Trade):-

 دوسری طرف 1791 میں Alexendar Hamilton جو کہ ایک امریکی پالیسی ساز تھا (Protected Trade) یعنی “محفوظ تجارت” کا حامی تھا۔

محفوظ تجارت کے فروغ سے اپنی نامولود صنعت کو بین الاقوامی صنعت کے دباو یا مقابلے سے بچایا جاتا ہے

 اور ملکی صنعت کاروں کو آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔

آئیں اب زرا اس فری ٹریڈ اور پروٹیکٹڈ ٹریڈ” کا تجزیہ 1912 میں اعلی حضرت کی مسلمانوں کو معاشی نصیحت سے کرتے ہیں۔

“مسلمان صرف مسلمانوں سے اشیاء کی خریداری کریں، باقی کسی کے ساتھ تجارت نہ کریں”۔

اب زرا غور کریں:-

 (1) ایک مسلمان کنزیومر کا پیسہ ایک مسلمان دوکاندار کے پاس جائے گا۔

(2) پھر وہ مسلمان دکاندار ایک مسلمان Wholesaler یعنی تھوک کا کاروبار کرنے والے کے پاس جائے گا۔

(3) اب وہ مسلمان Wholesaler ایک مسلمان کارخانہ دار (Manufacturer) کے پاس جائے گا۔

 (4) کارخانہ دار اپنی پروڈکشن کو اور بڑھائے گا اور پروڈکشن بڑھانے کے لیئے زمین، مزدور، پڑھ لکھے نوجوان کو نوکری کے ساتھ ساتھ سرمایہ بڑھانہ ہوگا۔

(5) یوں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔

 اسی رسالے میں اعلی حضرت نے سرمائے کو بڑھانے کے لیئے بچت اور اسلامی بینکاری نظام بھی وضع کیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی فرانس اور اٹلی مکمل طور پر تباہ ہوگئے، اور Rome Treaty سائن ہوئی۔ اس میں ممبر ممالک کو ایک یونٹ کی حیثیت دی گئی اور اس یونٹ میں فری ٹریڈ کا نظام رائج کیا گیا۔ کارخانہ دار کو ممبر ممالک میں را میٹیریل(Raw Material) کی نقل و حرکت پہ کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا تھا اور تیار مال کی ممبران کو آسان ایکسپورٹ پالیسی کے تحت، سستے داموں ممبر ممالک کے عوام تک پہنچایا جاتا تھا۔

آج شاید یورپیین یونین بھی انھی خدوخال پر مرتب ہے۔ اور یوں معاشی خوشحالی کے لیئے جوکہ کام اعلی حضرت مسلمانوں کو بتا رہے تھے، یورپ نے کر دکھایا۔ افسوس آج ہم اپنے اسلاف کو بھول کر مغربی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تعلیمی کے گرویدہ ہو چکے ہیں۔ مغرب ہر دور میں ہمارے اسلاف کی تعلیمات کو اپنا نام دے کر ہمارے خلاف پوری کامیابی کے ساتھ استعمال کرتا رہا۔

ہم ترکی، ایران، سعودی عریبیہ اور پاکستان جیسی طاقتور افواج کو maintain تو کرسکتے ہیں لیکن معاشی اتحاد کے بغیر کچھ حاصل نہ ہوگا۔

اب سوال یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کی پروٹیکٹڈ اکانومی کی اس پالیسی کو اگر پوری امت پر اپلائی کریں تو کیا ہم مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روک سکتے ہیں؟

میں نے انرجی اور خوردونوش کی اشیاء پیدا کرنے والے دس بڑے ممالک کے بارے میں ریسرچ کیا تو پتہ لگا کہ گندم، چاول، لائیو اسٹاک، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں مسلمان ممالک بشمول پہلے دس ممالک میں نظر آئے۔

اسی طرح انرجی سیکٹر یعنی پٹرول اور گیس کے ذخائر میں بھی مسلمان ممالک ہی آگے آگے ہیں۔

اگر ہم مسلمان تجارت صرف آپس میں کریں تو شاید وہ انقلاب آسکتا ہے جس کو ہم اب ترس چکے ہیں۔

اعلیٰ حضرت کی 1912ء کی تحریر انگریزوں کے لیئے تو مشعل راہ بنی مگر ہم مسلمان ان کو سمجھنے سے ابھی بھی قاصر ہیں۔

ان سنی باتیں جواد رضا خان

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment