اعلیٰ حضرت کے معنی اور کیا صرف امام احمد رضا ہی اعلیٰ حضرت ہیں ؟”

Rate this post

“اعلیٰ حضرت کے معنی اور کیا صرف امام احمد رضا ہی اعلیٰ حضرت ہیں ؟”

مختصر تعارف امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

👈امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان (علیہ رحمة الحنان)محدثِ بریلی کسی تعرف کے محتاج نہیں ہیں ۔آپکی سیرت پر کٸ کتب و رساٸل لکھے جاچکے ہیں ۔ آپ {علیہ الرحمہ} نے دین اسلام کا وہ کام کیا ہے ۔جس کو اپنے تو اپنے غیر بھی تسلیم کرتے ہیں ۔

اعلیٰ حضرت اور مخالفین

👈تخلیق انسانی کی ابتدا سے یہی دستور چلا آرہا ہے . جب بھی کوٸ اعلاء حق و سچ کرتا ہے اسکی اشاعت کرتا ہے ۔اسکے مخالفین پیدا ہوجاتے ہیں ۔اور جیسے جیسے اعلاء حق کرنے والا مشھور و معروف ہوتا رہتا ہے ۔اسکے مخالفین میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔

👈کبھی مخالفت کی وجہ حق بات کو تسلیم نہ کرنا ہوتا ہے تو کبھی مخالفت کی وجہ حسد و عناد ہوتی ہے ۔تو کبھی مخالفت کی وجہ جھالت ہوتی ہے ۔وغیرہ وغیرہ

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کا اعلاء حق

👈امام اہلسنت {علیہ الرحمہ} نے تو اعلاء حق اس شاندار انداز میں کیا کہ عرب و عجم میں اس کو مقبولیت حاصل ہوٸ۔تنہا مرد قلندر نے اپنے دور کے کٸ فتنوں کا مقابلہ کیا اور حق ادا دیا ۔آپکی تحاریر آپکے فتاوجات ۔اس پر شاہد ہیں ۔نہ صرف خود اپنے زمانہ میں مقابلہ کیا بلکہ آٸندہ آنے والے زمانے کے لۓ کٸ شاگرد اور خلیفہ تیار کۓ جنہوں نے امام اہلسنت {علیہ الرحمہ} کے قلمی جہاد کو جاری رکھا اور الحمد لله اس زمانے میں بھی آپ {علیہ الرحمہ} کے قلم کا فیضان جاری ہے ۔اور ان شاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا ۔

(جو امام اہلسنت علیہ الرحمہ کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہے وہ کتاب “حیات اعلیٰ حضرت”کا مطالعہ کرے)

👈یہ مختصر تمہید تھی ۔اب آٸیں ہم اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں ۔جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا کہ اہل حق کے مخالفین تو ہوتے ہی ہیں ۔اور امام اہلسنت {علیہ الرحمہ} تو اس دور میں اہل حق کے پیشوا و مقتدا ہیں ۔تو آپکے بھی مخالفین ہیں۔جو آپ {علیہ الرحمہ} پر . آپ {علیہ الرحمہ} کی تحاریر پر مختلف طرح سے اعتراض کر کے آپ {علیہ الرحمہ} سے اپنے بغض و عناد کا اظھار کرتے ہیں اور اپنی جھالت کی خبر عام کرتے ہیں۔انہی معترضین میں ایک معترض کا سوال اور اسکا جواب لکھا جارہا ہے ۔

👈سوال=اہل سنت والے امام احمد رضا کو اعلیٰ حضرت کہتے ہیں ۔حالانکہ کبھی انہوں نے فاروق اعظم کو اعلیٰ حضرت نہیں کہا کبھی کسی صحابی یا تابعی کو اعلیٰ حضرت نہیں کہا ۔ثابت ہوا کہ اھل سنت والے امام اہلسنت کو صحابہ سے بڑا درجہ دیتے ہیں ۔اور اس طرح وہ فاروق اعظم کی گستاخی کے مرتکب ہوۓ۔

👈جواب = بعون الوھاب الکریم

اس سوال کے دو جواب ہیں۔

ایک التزامی اور ایک تحقیق ۔

👈التزامی جواب

 اس سوال میں معترض نے اپنی نِری جھالت کا اظھار کیا ہے ۔اور اسنے یہ ثابت کیا ہے کہ جس طرح مجھے دین کی کچھ سمجھ نہی ہے اسی طرح مجھے عرف و عوام کے بارے میں بھی کچھ خبر نہیں ہے ۔اس معترض سے ہماری سب سے پہلے گزارش ہے کہ اپنی جیب سے کوٸ سا بھی ایک نوٹ نکالے اور کسی بھی پاکستانی سے پوچھے کہ اس نوٹ پر کس کی تصویر لگی ہوٸ ہے ۔تو سامنے والا فورا بولےگا کہ یہ قاٸد اعظم کی تصویر لگی ہے ۔اب کیا معترض ہر پاکستانی پر گستاخی کا فتوی لگاۓ گا ۔اور معترض سے ایک اور گزارش بھی ہے کہ وہ ذرا ایک ویڈیو اس موضوع پر بھی بناٸیں کہ محمد علی جناح صاحب کو قاٸد اعظم کہنا گستاخی ہے کیونکہ ہمارے قاٸد اعظم (سب سے بڑے رہنما) تو رسول کریم خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم) ہیں ۔پھر اسکو پتا چلے گا ۔معترض اس بات کو گستاخی ثابت کر پاۓ یا نہ کر پاۓ ۔ لیکن اس پر مقدمہ ضرور درج ہوجاۓ گا ۔

👈تحقیقی جواب ۔

اعلیٰ حضرت کا معنی ہے بڑے حضرت ۔اس طرح کے الفاظ عموما لقب کے لۓ استعمال کۓ جاتے ہیں ۔جس طرح صدیق اکبر ۔فاروق اعظم ۔مفتی اعظم ۔مفسر اعظم۔حکیم الامت ۔محدث اعظم۔قاٸد اعظم ۔وزیر اعظم وغیرہ وغیرہ ۔اور انسے مراد استدراک نہیں ہوتا ۔یعنی صاحب لقب کے لۓ یہ صفت کسی اور میں نہ ہو یہ ضروری نہیں ہے ۔ہاں صاحب لقب میں یہ صفت نمایاں ہوتی ہے ۔جبھی تو اسکو یہ لقب ملتا ہے ۔

👈سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ( صدیق اکبر) کہا جاتا ہے ۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ( فاروق اعظم) کہا جاتا ہے ۔علی ھذا القیاس ۔تو اب یہاں یہ اعتراض تو نہیں بنتا کہ صدیق اکبر یا فاروق اعظم ۔خاتم النبیین {صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم} کو کیوں نہیں کہا جاتا ۔کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ سیدنا ابوبکر کا صدیق اکبر ہونا اور سیدنا عمر کا فاروق اعظم ہونا (رضی اللہ عنھما) ۔حضور اقدس {صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم} کے فیضان کی وجہ سے ہی ہے ۔

اسی طرح خود نبی کریم خاتم النبیین {صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم} نے بھی خود اپی زبان مبارک مطھر سے بھی اصحاب کو القابات سے نوازا ۔

چنانچہ ارشاد فرمایا ۔

لكل امة امين و امين هذه الامة ابو عبيدة بن الجراح ۔

[مشکاة المصابیح 367/2]

ترجمہ =ہر امت کا کوئی امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ ابن جراح ہیں ۔

ارشاد فرمایا ۔

ان لكل نبي حواريا وحواري الزبير ۔

[مشکاة المصابیح ایضا]

ترجمہ=ہر نبی کے مخلص دوست ہوتے ہیں اور میرے مخلص دوست زبیر ہیں۔

اسی طرح اور بھی کٸ اصحاب کو خود نبی کریم {صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم} نے القابات سے نوازا ۔

یہاں بھی کوٸ اعتراض نہیں بنتا کہ حضرت ابو عبیدہ (رضی اللہ عنہ ) کے علاوہ کیا کوٸ دوسرا امین نہیں ۔

بلکہ اگر ان احادیث کی شرح پڑھی جاۓ تو وہاں سے یہی معلوم ہوگا کہ اس طرح کہ القابات کی وجہ صاحب لقب میں اس صفت کا نمایاں ہونا ہے ۔اور یہ بھی ضروری نہیں کہ صاحب لقب میں اس لقب کے علاوہ اور کوٸ صفت نہ ہو۔

👈خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام احمد رضا خان( علیہ رحمة الحنان) کو اعلیٰ حضرت کہنے میں کوٸ حرج نہیں ہے ۔ اس سے کسی نبی۔ صحابی۔یا ولی کی کوٸ گستاخی لازم نہیں آٸ گی ۔

🤲🏼اللہ کریم ہمیں علم دین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ ۔ اور اسلافِ دین کا فیضان ہمیں نصیب فرماۓ ۔آمین

ابن سلیم عبدالرحمٰن عطاری

 

19-محرم الحرام-1445ھ

 

6-8-2023

FAQs:

سوال:  اعلیٰ حضرت کے والدہ کا نام کیا ہے ؟

آپ کی والدہ ماجدہ کا نام محترمہ ارشاد بیگم تھا جو ایک نیک سیرت خاتون تھیں، بڑی سر چشم، انتہائی مہمان نواز نہایت متین و سنجیدہ بی بی تھیں، جنہیں آپ جیسی نرینہ اولاد کی ماں بننے کا شرف حاصل ہوا۔

سوال:  اعلیٰ حضرت کی پیدائش کب ہوئی ؟

آپکی پیدائش 1272ھ  14 جون 1856ء کو ہوئی ۔

 سوال: فتاویٰ رضویہ کی کل کتنی جلدیں ہیں ؟

 فتاویٰ رضویہ کی کل 30 جلدیں ہیں، 22000+ صفحات ہیں، چھ ہزار آٹھ سو چالیس سوالات مع  جوابات ہیں ۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment