اسلامی واقعات ! امت مسلمہ کا زوال

Rate this post

ہم یوں ہی بکھرے نہیں ہر سو خس و خاشاک میں !

بلادِ شام کے دورے کے دوران حضرت فاروق اعظم نے گورنر شام حضرت ابو ۔عبیدہ سے فرمایا کہ میں تمہاری رہائش گاہ دیکھنا چاہتا ہوں ، کھجور کے پتوں سے بنی جھونپڑی اور اس میں ایک بچھا ہوا مصلی، لٹکتا ہوا پیالہ ، سادہ بستر اور ایک بھیڑ دیکھ کر فاروق اعظم اشکبار ہو گئے اور اس سادہ طرزِ حیات پر فرمانے لگے

 [ غيرتنا الدنيا كلنا غيرك يا أبا عبيده ]

اے ابنِ جراح دنیا نے ہم سب کو بدل ڈالا ماسوائے تمہارے ، أمين الأمة ہی کے متعلق فاروق اعظم نے خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ تاریخی جملے ارشاد فرمائے تھے کہ اگر ممکن ہوتا تو میں دنیا کو ابو. عبیدہ بن الجراح جیسے لوگوں سے بھر دیتا

یاد رہے بلادِ شام سے موجودہ عرب اسلامی دنیا کے چار ممالک سوریا ، اردن ، لبنان اور ارض اسراء و معراج مراد لئے جاتے ہیں

ارض اسراء اور رباط شام سے مسلمان کسی دور میں غافل نہیں رہے کیونکہ معراجِ حبیبِ کبریا سے یہ خاموش پیغام آج بھی موجود ہے کہ رفعتوں اور بلندیوں کے سارے راستے قبلہء اول سے ہی ہو کر جاتے ہیں۔

لہذا امت مسلمہ کو چاہئے کہ اپنی صفوں میں اسی طرح وحدت پیدا کرے جیسے مختلف شریعتوں کے حامل انبیاء کرام علیہم السلام صفیں بنا کر سید الرسل کی اقتداء میں کھڑے تھے

خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ ہی امت مسلمہ میں ایسے گروہ ، جتھے ، جماعتوں اور احزاب کا ظہور ہوا جنہوں نے اتفاقات کو ثانویت اور اختلافات کو اولیت دینے کا رواج ڈالا

اور یوں مختلف جماعتوں میں قیادت معتدل افراد کے بجائے غلو اور تطرفانہ رجحانات کے حاملین کے پاس رہی اور لوگوں نے پیکران غلو و تشدد کو مفتی اعظم ، قاضی القضاۃ ، شیخ الاسلام ، فقیہہ اسلام ، حجۃ الاسلام جیسے بڑے القابات سے یاد کرنا شروع کر دیا حالانکہ ایسے غلو پسندانہ شخصیات کسی ایک مسلک یا مذہبی گروہ کے لئے رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینے کے قابل نہ تھیں چہ جائیکہ کہ جماعت و امت کی نمائندگی کرتیں۔

دوسری طرف ایسے سرمایہ پرست حکمران مسلط کئے جاتے رہے جنہوں نے سیاست گردی کو شعار ٹھہرایا اور جن کا قبلہ و ایمان اصںنام مغرب کی پوچا پاٹ رہا

اور جنہوں نے اسلامی شناخت کے بجائے مسلمانوں میں قومی شناختوں کے فروغ کا میدان سنبھالا اور یوں قومی شناخت اسلامی شناخت پر غالب آنا شروع ہوئی

اور مسلمان ایک دوسرے کو مسلمان کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے عراقی ، شامی ، لبنانی ، مصری ، افغانی و پاکستانی و ہندوستانی کی حیثیت سے دیکھنے لگے

بہ قول الشیخ ابو بکر العدنی ہم بہ حیثیت امت مرحلہ غثائیہ ( خس و خاشاک زمانے) سے گزرنے لگے

دور خس و خاشاک میں ہی اقوامِ عالم مسلمانوں کے خلاف متحد ہو کر ایک دوسرے کو دعوت دیں گی اور ہمارے وسائل کو باہم تقسیم کریں گی جبکہ ہم ان کے لئے دستر خوان سجائیں گے

جیسا کہ حالاتِ حاضرہ سے ظاہر و باہر ہے کہ مسلمان ملک کسی بھی مسئلہ کے حل کے لئے کفار کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں ایسا کوئی مؤثر فورم نہیں کہ مسلم ملک امت مسلمہ کے کسی فورم سے رجوع کریں ، بعض مسلم ممالک امریکہ بہادر سے امید لگائے بیٹھے ہیں تو بعض روس سے ! یہ خس و خاشاک زمانے کی ہی عملی تعبیر ہے

اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے استاذ فتح اللہ گولن لکھتے ہیں

[ ایک طرف فکری اور مزاج کے اختلافات ہے جس نے ہماری وحدت کو پارہ پارہ کر دیا اور دوسری جانب دنیوی منفعت اور مصالح نے ہمارے دشمنوں کی صفوں میں وحدت پیدا کر کے انہیں ہمارے مد مقابل لا کھڑا کیا ہے جس کے نتیجے میں وہ ہم پر غالب آ گئے اور ہمیں ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا ]

دشمن نے امت مسلمہ کی صفوں کو ممالک ، فوجوں ، جماعات و احزاب میں تقسیم کر کے پاش پاش کر دیا ، اسلحہ و فوج دشمن کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی جب اسے صفوف امت میں ہی بھگدڑ مچی ہوئی دکھائی دیتی ہے

مختلف دھڑوں اور جماعتوں کو امت کی سطح پر آراء و افکار میں وحدت و یگانگت سے کام لینا ہوگا اور جو غلط اقدامات ہیں ان سے گریز کرنا ہوگا تاکہ شیطان اور اس کی ذریت تفرقہ و اختلاف کے ذریعے ہماری صفوں کو پاش پاش نہ کر سکے

کاش مسلمان فرقہ وارانہ دشمنی کی تپش سے نجات پا جائیں اور مشترکات پر اکھٹے ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ معاملہ کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں تو جلد وہ فتح یاب ہوں گے

عطاء المصطفیٰ مظہری

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment