استاذالمکرم ابوالفیض مفتی محمد فضل الرحمان بندیالوی کا زمانہ طالبعلمی اوراستاذالعلمإ علامہ عطامحمدبندیالوی کا درس و تدریس

Rate this post

استاذالمکرم ابوالفیض مفتی محمد فضل الرحمان بندیالوی کا زمانہ طالبعلمی اوراستاذالعلمإ علامہ عطامحمدبندیالوی کا درس و تدریس

قسط ثانی

استاذالمکرم استاد کریم بخش رحمہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری

1983 میں استاد مفتی کریم بخش رحمہ اللہ کی بارگاہ میں فیض حاصل کرنے کے دو سال بعد 1985میں قبلہ استاذالمکرم ابوالفیض زیدمجدہ بڑے استاد استاذالعلما ٕ علامہ عطا ٕ محمد بندیالوی رحمہ اللہ کی پاس مکھڈ شریف ضلع اٹک حاضر ہوگۓ ۔

استاذالمکرم ابوالفیض مفتی محمد فضل الرحمان بندیالوی صاحب کا بڑے استاد عطاء محمد بندیالوی صاحب کے بارگاہ میں حاضری

قال_الاستاذالمکرم_حفظہ_اللہ کہ میں نے بڑے استاد صاحب کے پاس حاضر ہونے سے پہلے ایک خواب دیکھا تھا کہ ہم دو طالبعلم ہیں ۔دونوں شہد تلاش کررہے ہیں پہلے جہاں ہم تلاش کررہے تھے وہاں درخت اور جھاڑیاں تھیں پھر تلاش کرتے کرتے صحرا میں نکل گۓ ۔

وہاں آسمان سے شہد ایسے گرنا شروع ہوا جیسے میزاب (پرنالہ) سے بارش کا پانی گرتا ہے ۔ابھی زمین تک نہیں پہنچا تھا کہ میں نے اسے دیکھ لیا میں اسکی طرف دوڑا ساتھی کو بھی آواز دی کہ شہد آسمان سے گر رہا ہے چلو !

میں اسکے نیچے گیا اور دونوں ہاتھ ملا کر اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے پیا ۔میرا ساتھی وہیں کھڑا رہا وہ نہیں آیا ۔اسکے بعد میں بڑے استاد صاحب رحمہ اللہ کی بارگاہ میں پڑھنے کے لیے حاضر ہوا تھا ۔

میں سمجھتا ہوں کہ بڑے استاذ صاحب کی بارگاہ میں پڑھنا یہ وہ شہد تھا جو میں نے خواب میں دیکھا تھا ۔

استاد صاحب کے پاس جب ہم گۓ تو وہاں پتہ چلا کہ اسباق کا کیسے مطالعہ کرنا ہے اسباق پڑھانے کا انداز کیا ہوتا ہے ۔۔بہت کچھ استاد ہم پر اثر کر گۓ استاد کی شخصيت نے مجھے بہت متاثر کیا ۔

استاد کا احترام

میں سمجھتا ہوں کہ انکی مثل انکے زمانے میں نہیں تھی ۔بے مثل انسان تھے ۔استاد کا مرتبہ کٸی درجہ زیادہ تھا ۔کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ استاد کا مرتبہ بلند ہو اورطالبعلم کا عقیدہ اس سے کم ہو تو فیض صحیح نہیں آتا ۔

عطاء محمد بندیالوی صاحب سے شرف تلمذ

قال_الاستاذالمکرم کہ بڑے استاد علامہ عطا ٕ محمد بندیالوی رحمہ اللہ سے میں نے ابتدا سے کتابيں پڑھنا شروع کیں ۔جبکہ میں پہلے سات سال پڑھ چکا تھا تقریبا ساری کتب دوبارہ شروع کیں میں استاد صاحب کے پاس سات سال تک پڑھتا رہا ۔سب سے پہلے مکھڈ شریف پہنچا وہاں استاد صاحب نے دو سال تک تدریس فرمائی ۔وہاں بجلی پانی کی کوٸی خاص سہولیات نہیں تھیں

پانی کے لیے ہمیں دریاۓ سندھ جانا پڑتا تھا جو کہ مکھڈ شریف کی مغربی جانب نچلی طرف واقع ہے ہم وہاں جاتے پسینہ پسینہ ہو جاتے تھے وہاں مچھروں کی بہتات تھی ۔مجھے اسوقت پیر سیال شمس العارفین خواجہ غلام شمس الدین سیالوی رحمہ اللہ (پیرومرشد حضور پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ) یاد آتے تھے ۔وہ بھی اپنے وقت میں اپنے ماموں میاں احمددین رحمہ اللہ اور مولانا محمد علی مکھڈوی رحمہ اللہ کے پاس تیرہ سال تک مکھڈ شریف میں پڑھتے ۔

قال_الاستاذالمکرم کہ میں سوچتا تھا کہ ہم اتنے عرصہ میں تنگ ہو گۓ ہیں انہوں نے اتنے سال کیسے گزارے ہونگے ۔ہمارے زمانے میں تو کچھ سہولیات تھیں لیکن انکے وقت میں نہیں تھیں ۔وہاں صاحبزادہ ناصر گل صاحب میرے ہم سبق تھے جو کہ اب مکھڈ شریف میں سجادہ نشین ہیں ۔

استاد صاحب اسوقت بوڑهے ہو چکے تھے ۔میں چاہتا تھا کہ تمام کتابیں استاد صاحب سے پڑھ لوں ۔

مکھڈ شریف میں دو سال پڑھانے کے بعد استاد صاحب بھکھی شریف تشریف لے گے اور میں بھی ساتھ چلا گیا بھکھی شریف میں استاد صاحب نے تین سال تک تدریس فرماٸی پھر وہاں سے استاد صاحب بندیال شریف تشریف لے آۓ ۔

یہاں استاد صاحب نے ہمیں دورہ حدیث شروع کرایا ۔بخاری شریف ۔ترمذی شریف اور ابن ماجہ استاد صاحب ہمیں پڑھاتے تھے ۔انکے علاوہ حمداللہ اور توضیح تلویح بھی درس میں شامل تھیں ۔

یہاں علامہ عبدالحق بندیالوی ابن استاذالعلما ٕ علامہ یار محمد بندیالوی کے بڑے بیٹے علامہ مظہر الحق بندیالوی میرے ہم سبق تھے

پھر استاد صاحب اپنے گھر ڈھوک ڈھمن ضلع خوشاب تشریف لے آۓ ۔اس سال بہت سیلاب آۓ تھے استاد صاحب کے گھر کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گٸی تھیں نٸی تعمير شروع ہوٸی۔

قال_الاستاذالمکرم کہ ہم دو طالب علم اور دو مستری تھے سب کام ہم کرتے تھے رات کو عشا ٕ کے بعد بھی کام کرنا ہوتا تھا استاد کے مکان کی تعمیر میں کافی وقت لگ گیا تھا سبق نہیں ہورہے تھے ۔مکان تعمیر ہونے کے سبق شروع ہوۓ تھے ۔مسلم الثبوت اور خیالی کے جو مقامات رہ گۓ تھے وہ میں نے یہاں پڑھے تھے اور امور عامہ بھی یہاں پڑھا تھا ۔

استاد صاحب چونکہ بوڑھے ہوچکے تھے مسجد تشریف نہیں لاسکتے تھے ۔

قال_الاستاذالمکرم رمضان شریف میں میں نے استاد صاحب کو تراویح میں قرآن پاک سنایا تھا جبکہ آپ خود بھی حافظ تھے ۔ہم کتب خانہ میں تراویح پڑھا کرتے تھے

انداز_تدریس

استاد عطا ٕ محمد بندیالوی صاحب تو ایسے تھے کہ ایک دن سبق پڑھایا ۔دوسرے دن سبق میں فرماتے کہ ہاں بھاٸی کل والے سبق کی تقریر کرو پھر آگے سبق ہو گا ۔میں نے استاد صاحب کے سانے پچھلے سبق کی تقریر کی ۔

پھر استاد صاحب نے فرمایا ہاں مجھے یہ ذہن میں آرہا ہے کہ فلاں لفظ کا مطلب تم سمجھے ہو کہ نہیں ۔تو اسی طرح استاد صاحب بڑی مہربانی فرمایا کرتے تھے

#قال_الاستاذالمکرم کہ پھر میں گھر آگیا تھا ۔استاد صاحب کی بارگاہ میں عرض کیا کہ کونسی کتابيں لے آٶں تو استاد صاحب نے فرمایا کہ #فضل_الرحمن تو نے میری بہت خدمت کی ہے میں تجھے سبق پڑھاٶں گا ۔پھر استاد صاحب نے سبق نہیں پڑھاۓ تھے ۔کیونکہ آپ بہت بیمار ہوگۓ تھے۔

قال_استاذالمکرم میں پھر استاذالعلما ٕ علامہ غلام محمد تونسی صاحب کے پاس پڑھنے کے جامعہ خیر المعاد ملتان شریف آگیا تھا ۔

جب میں استاد غلام محمد تونسوی رحمہ اللہ کے پاس پڑھتا تھا تو استاد عطا ٕ محمد بندیالوی رحمہ اللہ بہت یاد آتے تھے ۔دل💗ہوتا کاش یہ سبق استاد پڑھاتے اور یہ مقام استاد سمجھاتے۔

قال_الاستاذالمکرم ایک مرتبہ میں نے ایک مقام کا مطالعہ کیا دل میں آیا کہ کاش استاد ہوتے اور یہ مقام سمجھاتے

رات کو خواب میں استاد کی زیارت کی اور استاد صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہاں بھٸی یہ مسلہ اس طرح ہے “گویا میری تاٸیدفرماٸی کہ میں مقام صحیح سمجھا ہوں پھر کٸی مرتبہ خواب میں تشریف لاتے اور کچھ نہ کچھ پڑھاتے ۔یوں مجھے استاد صاحب کا فرمان یاد آتا تھا کہ “فضل الرحمن”

تو نے میری بہت خدمت کی ہے میں تجھے ضرور

سبق پڑھاٶں گا۔

 ان شاء اللہ تیسری قسط بہت جلد اپلوڈ کی جاۓ گی

🌹💘اللہ تعالی قبلہ استاذالمکرم میرے مربی و محسن الشیخ ابوالفیض مفتی محمد فضل الرحمن بندیالوی اشرفی اطال اللہ عمرہ کو اللہ تعالی صحت کاملہ و لمبی زندگی عطا ٕ فرمائے 🌹🌹آمین🌹🌹

🌹🌹🌹دعاٶں کا طالب🌹🌹🌹

محمد_فاروق_مدنی_الحسنی_متعلم_جامعہ_منظر_الاسلام_حنفیہ

_غوثیہ_بستی_خیرآبادشریف_پروآ_ڈیرہ_اسماعیل_خان

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

1 thought on “استاذالمکرم ابوالفیض مفتی محمد فضل الرحمان بندیالوی کا زمانہ طالبعلمی اوراستاذالعلمإ علامہ عطامحمدبندیالوی کا درس و تدریس”

Leave a comment