ابو لہب کون تھا | ابو لہب اور ام جمیل کا انجام

5/5 - (1 vote)

ابو لہب کا اصل نام عبد العزی تھا۔ابو لہب کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ یہ تھا کہ ابو لہب حضور ﷺ کا سگا چچا تھا اور آپ کا سخت دشمن تھا ابو لہب آپ ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا۔

ابو لہب کی گستاخی

جب حضور ختمی المرتبت ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو پکارا اور انہیں توحید باری تعالیٰ کا درس دیا تو ابو لہب نے بگڑ کر کہا’’تو برباد ہو جائے کیا تو نے ہمیں یہی سنانے کے لئے جمع کیا تھا؟‘‘

ابو لہب کی بربادی

اس پر خالق ارض و سما نے اس کی تباہی و بربادی کا یوں اعلان فرمایا۔تبت یدآ ابی لھب وتب۔(سورۃ لہب ۔1)ترجمہ:’’ ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہو جائے۔‘‘

ابو لہب کا انجام

ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ تباہ ہو ہی گیا دنیا میں تو اس کا حال یہ ہوا کہ اس کے زہریلی قسم کا ایک چھالہ(العدسہ) نکلا جو سارے جسم میں پھیل گیا ہر جگہ سے بد بودار پیپ بہنے لگی گو شت گل گل کر گرنے لگا اس کے بیٹوں نے اسے گھر سے باہر پھینک دیا اور اس نے تڑپتے تڑپئے جان دے دی۔

اس کی نعش تین دن تک یونہی رہی اور لوگ اس کے تعفن اور بدبو سے تنگ آگئے اور اس کے بیٹوں کو لعنت ملامت کرنے لگے تو انہوں نے چند حبشی غلاموں سے گڑھا کھدوایا اور لکڑیوں سے اس کی لاش کو دھکیل کر اس گڑھے میں پھینکوا دیا اور اوپر مٹی ڈال دی اس کا یہ حشر اﷲ کے غضب ہی کا نتیجہ تھا کہ مکہ کے چار رئیسوں میں سے ایک رئیس کا حشر ہوا اور قیامت کے روزسیصلیٰ نارا ذات  ’’عنقریب وہ جھونکا جائے گا شعلوں والی آگ میں۔‘‘

 ام جمیل کا  انجام

ابو لہب کی بیوی اروہ کنیت ام جمیل اور ابو سفیان کی بہن تھی جس کے دل میں حضور ﷺ کے نفرت کوٹ کوٹ کر بھری تھی دشمنیٔ رسالت میں اپنے خاندان سے کم نہ تھی۔

ابو لہب کی بیوی کا نام

جنگل سے خاردار لکڑیاں چن کر رات کو اس راستہ پر بچھا دیتی جس سے حضور ﷺ کا گزر ہوتا ایک روز بوجھ اٹھا کر لا رہی تھی کہ تھک کر آرام کے لئے ایک پتھر پر بیٹھ گئی ایک فرشتے نے بحکم الہٰی اس کے پیچھے سے اس کے گٹھے کو کھینچا وہ گری اور اس سے گلے میں پھانسی لگ گئی اور مر گئی

،دیکھئے قرآن ارشاد فرمارہا ہے۔ترجمہ’’اور اس کی جورو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی اور اس کے گلے میں کجھور کی چھال کا رسہ اور قیامت کے روز بفرمان نبوی ﷺ اس کا حشر ہو گا کہ جس آگ میں اس کا گستاخ خاوند جلایا جائے گا اسی آگ میں وہ بھی جھونکی جائے گی۔

ابو لہب کے بیٹے کا انجام

ابو لہب کے دو بیٹے عتبہ اور شیبہ کے ساتھ سرور دو عالم ﷺ کی دو صاحبزادیوں حضرت رقیہ رضی اﷲ عنہا اورحضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا کی شادی ہوئی تھی۔جب حضور ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو ابو لہب کے کہنے پر دونوں بیٹوں نے طلاق دے دی۔

ابو لہب کے بیٹے عتبہ کا انجام

عتبہ نے اپنے خبثِ باطن کا کچھ زیادہ ہی مظاہرہ کیا کہ اس ناپاک نے رخ انور ﷺ پر تھو کنے کی جسارت کی جو لوٹ کر اس قبیح کے منہ پر آپڑی حضور ﷺ کی زبان سے نکلا’’الہٰی ! اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس ناہنجار پر مقرر فرمادے۔

چنانچہ ایک سفر میں ایک شیر نے اسے پھاڑ ڈالا مگر نہ اس ناپاک کا گوشت کھایا نہ لہو پیا جب اس نے بے ادبی کی۔نہایت گستاخی سے پیش آیا آپ ﷺ کی بد دعا کی فکر سے کہنے لگا قافلہ کے سب لوگ ہماری خبر رکھیں ایک منزل پر پہنچے۔

وہاں زیادہ شیر تھے رات کو تمام قافلہ کا سامان ایک جگہ جمع کیا اور اس کا ٹیلہ بنا کر عتبہ کو سلایا اور قافلہ کے تمام آدمی چاروں طرف سو گئے رات کو شیر آیا اور سب کے منہ سونگھے اس کے بعد ایک جست لگائی اور اس ٹیلے پر پہنچ گیا اور عتبہ کا سر بدن سے جدا کر دیا

اس نے ایک آواز لگائی مگر ساتھ ہی کام تمام ہو چکا تھا اس کے دوسرے بھائی شیبہ نے چونکہ حضور ﷺ کی توہین نہیں کی تھی اس لئے اﷲ تعالیٰ نے دولت اسلام سے نواز دیا۔

(حیات الصحابہ)اور

(بخاری،کتاب اللایمان) میں ان واقعات کا ذکر موجود ہے۔

ابو لہب کون تھا

ابو لہب

تصویر میں موجود علاقہ پرانا مکہ /Old Makkah کا حصہ ہے… گو اس علاقہ کا نام بدل دیا گیا ہے مگر وجہ شہرت وہی پرانا نام ہے اور اس علاقے کا پرانا نام “ابو لہب” ہے..یہاں گاڑیوں کے سپئیر پارٹس وغیرہ کی مارکیٹ ہوا کرتی تھی ,جو اب نہیں ہے…

سعودی حکومت ححاج کرام کے لئے عرفات٫مزدلفہ کے پرانے راستوں کی بجائے نئے رستوں کو بنا چکی ہے اور بنا بھی رہی ہے , ورنہ تو دوران حج پورا شہر مکہ ہی گھوم لیا جاتا تھا۔

یہاں قریب سے ایک گلی نکلتی ہے جو سیدھی مزدلفہ کو جاتی ہے شاید وہ ان پرانے رستوں کی یادگار ہے جب لوگ اونٹوں وغیرہ پہ سفر و حج کرتے تھے…

پرانے مکہ کا یہ علاقہ “حیی الشھداء” ضلع میں ہے….مدینہ منورہ کا “حیی الشھداء” تو مسجد قباء اور حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے مزار اقدس کا علاقہ ہے ….

مکہ کے “حی الشھداء ” کی اپنی اک تاریخ ہے…. گزشتہ پوسٹ جو کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی آخری آرام گاہ کی تصویر تھی اس کے آرام گاہ کے مد مقابل “حیی الشھداء ” کے مزارات ہیں ,جس کی تصویر ان شاء اللہ تفصیلی پوسٹ کے ساتھ لگائیں گے۔

ابو لہب کی قبر

‏اس پوسٹ میں جو تصویر ہے ,یہ وہ خاص جگہ ہے جہاں ابو لہب کو گڑھے میں پھینکا گیا…

ابو لہب کی بیماری

ابو لہب “مسدہ ” نامی بیماری کا شکار ہوا کہ جسم سے تعفن اور بدبو کے بھبھوکے اٹھتے, گھر والے اور اڑوس پڑوس والے اس سے بیزار ہوئے کوئی پاس بھی نہ جا سکتا تھا..

 تنگ آ کر اولاد نے ابولہب کو اس گڑھے میں زندہ مردہ پھینکوا دیا , دفن تو کیا کرنا تھا لوگوں کے کنکروں سے کہیں نعش دب گئی..

اسی وجہ سے اس علاقے کو “ابو لہب ” کہا جاتا ہے… ایک مدت تک اس جگہ کے قریب بھی کوئی نہیں پھٹکتا تھا,مگر اب….

آپ تصویر ملاحظہ کر لیں!

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

ابو لہب کا قرآن میں ذکر کیوں ؟

ایک عالم سے کسی نے سوال پوچھا کہ قرآن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو لہب کا نام کیوں آیا، اور ابو جہل کا نام کیوں نہیں آیا، حالانکہ ابو جہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت مخالف تھے۔۔۔

     عالم نے کہا جب اپنا مخالفت کرے، تو اس کا صدمہ بڑا ہے۔ ابو لہب چچا تو تھا، لیکن دشمنی کرتا، اور جب مشرکین مکہ نے 3 سال معاشی و معاشرتی بائیکاٹ کیا تو ابو لہب اپنی قوم کی حمایت کی بجائے ابو جہل کیمپ میں شامل ہوا۔

اور جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا عبداللہ رضی اللہ عنہ وفات ہوئے، تو ابو لہب نے دشمن کو خبر دینے گیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نرینہ اولاد وفات پایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل نعوذباللہ ختم ہوا۔۔۔ یعنی دشمن کو گھر کی خبریں دینے والا ابو لہب تھا۔۔۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment