آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے خاطر زندان میں ۔ علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ

Rate this post

آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے خاطر زندان میں۔

علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ

ناموس رسالت کے خاطر جیل میں

جب جیل پہنچے تو انہوں نے میرا مذاق اڑانا شروع کیا ، میرا مذاق اڑانے لگے کہ میں قدموں سے چل کر جیل کی طرف جاؤں ۔

بھلا میں معذوری میں کیسے چلتا؟؟؟

پس انہوں نے مجھے گھسیٹنا شروع کیا اور مجھے گھسیٹ کر ایک تاریک کوٹھڑی میں پھینک دیا میری علالت کسی سے پوشیدہ نہیں ،

فرش پر زبردستی بٹھانا علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ

سب جانتے ہیں کہ مجھ سے فرش پر نہیں بیٹھا جاتا مجھے کوئی پانچ منٹ فرش پہ بٹھا دے مجھ سے نہیں بیٹھا جاتا،،

میں نے چھ ماہ ذندان میں فرش پر بیٹھے بیٹھے گزار دیئے ، اف تک نہ کہا “””گل وچو ہور اے””بعض دن تو ایسے تھے کہ میں سارا دن بھوکا پیاسا رہتا تھا ، شدید کمزوری میں بھی دل ایک ہی بات کہتا تھا:”کیا ہی فرق پڑتا ہے اگر تجھے یہاں موت آگئ؟؟؟؟

کیا تیرے لئے یہ کافی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت پر فنا ہو جائے؟”جیل کی حالت عجیب تھی ، دیوار سے پانی بہتا رہتا تھا دسمبر جنوری کی سرد راتوں میں شدید تکلیف ہوتی تھی میرے ایک ساتھی سے برداشت نہ ہوا تو اس نے عملے کو کہا:”ہمیں کوئ ہیٹر رکھ دو کہ تم بھی دیکھتے ہو کہ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو قاتل ہیں، ملک کا خزانہ لوٹنے والا بھی یہاں بیٹھا ہے ، انہیں تو ہیٹر ملیں اور ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑے جائیں؟؟؟اسے یہ جواب دے کر خاموش کیا گیا:

“انہیں ہیٹر دینے کا آرڈر ہے تم لوگوں کو ہیٹر دینے کا آرڈر نہیں”……

میں مسکرا دیا ، بھلا میں نے کوئ قتل کیا تھا؟؟؟؟؟؟؟چوری کی تھی؟؟؟؟؟میرا جرم تو فقط اتنا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناMوس کی بات کی

میرا عمامہ میرا فخر ہے اور علمائے اسلام کی عظمت کی نشانی ہے ، ایک روز انہوں نے مجھے لاٹھیوں سے مارنا شروع کیا تو عمامہ دور جا گرا ، میرا ذھن خندق کے مقتل کی جانب لوٹ گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں سے مٹی اٹھاتے تھے حتی کہ حضور علیہ السلام کی سفیدی پوشیدہ ہو گئ بس میرے دل کو قرار آگیا کہ کونسا قیامت آگئ کہ تیرا عمامہ گر گیا؟؟؟؟

سرد راتوں میں اکثر تو ایسا ہوتا تھا کہ وہ تمسخر کیلئے مجھ پر ٹھنڈا پانی گرا دیتے تھے،،،،

اے امت مسلمہ! میں نے کبھی سر نہ جھکایا ،اگر کوئی اور ہوتا تو اگلے ہی روز کہ دیتا

“اب میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بات نہ کرونگا”

میں بس خود سے اتنا ہی کہتا تھا:

“اے شخص! تو نے حضور علیہ السلام کیلئے سختی دکھائ ، ان کی عزت کا دفاع کیا ، اب آخری وقت تک اس پر قائم رہنا”،،،،⁦❤️⁩

 😭 💔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment