آفتاب پنجاب حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی رحمہ اللّٰہ

Rate this post

 آفتاب پنجاب حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی رحمہ اللّٰہ ٢٧/نومبر بروز پیر خلیفہ امام ربانی ، آفتاب پنجاب ، علامہ زماں ، حضرتِ علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر انوار پر پہلی بار بدر المشائخ

حضرتِ قبلہ پیر سید بدر مسعود شاہ صاحب گیلانی زید مجدہ کے ہمراہ حاضری کا شرف نصیب ہوا ۔ نماز مغرب آپ کے مزار شریف کے قدمین والی جگہ پر ادا کی اس کے بعد مراقبہ اور فاتحہ خوانی کی گئی ۔

عبدالحکیم سیالکوٹی ولادت باسعادت

حضرتِ علامہ عبدالحکیم رحمۃ اللّٰه علیہ کا وطن سیالکوٹ تھا ، یہیں عہد اکبری میں پیدا ہوئے اور یہیں پرورش پائی ۔

عبدالحکیم سیالکوٹی والد ماجد

مؤرخ لاہور محمد الدین فوقؔ کے قیاس کے مطابق آپکی ولادت سن ٩٦٨ھ میں ہوئی۔ آپ کے والد گرامی کا نام شیخ شمس الدین تھا ۔

عبدالحکیم سیالکوٹی تعلیم و تربیت

 آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش اُسی طرح ہوئی جس طرح ایک عام غریب گھرانوں کے بچوں کی ہوتی ہے۔

البتہ آپ کی پیشانی پر ستارۂ بلندی کی جھلک ضرور دکھائی دیتی تھی۔

بچپن میں ہی آثارِ سعادت و فطانت صورت سے عیاں تھے۔ پھر قسمت نے یاوری کی کہ علامۂ مشرقَین حضرت علامہ مولانا کمال الدین کشمیری رحمہ اللّٰه، کشمیر سے سیالکوٹ ہجرت کر آئے۔

اور”مسجد میاں وارث”میں انہوں نے قرآن و حدیث ودیگر علوم عقلیہ ونقلیہ کا درس جاری کیا۔ جہاں علم کے پیاسے جوق در جوق آکر سیراب ہونے لگے۔ آپ نے مولانا سے وہیں علوم عقلیہ و نقلیہ کی خوب تحصیل کی ۔

عبدالحکیم سیالکوٹی کون؟

“چہار دانگ عالم میں چرچا “

حضرتِ علامہ عبد الحکیم رحمۃ اللہ علیہ نے منطق ، فقہ ، حدیث ، تفسیر میں وہ نام پیدا کیا کہ ہندوستان کے علاوہ مصر ، قسطنطنیہ ، حجاز ، بخارا ، مراکش تک ان کا نام مشہور ہے ۔

محمد الدین فوق مرحوم لکھتے ہیں کہ:” حضرتِ شاہ صاحب قبلہ علیپوری نے ایک مرتبہ بمقام لاہور فرمایا کہ ہم ایام حج میں مقام ینبوع میں تھے

چند مراکشی مشائخ اپنے خیمہ ڈیرہ سے نکل کر اور یہ سنکر کہ میں شیخ ہندی ہوں میرے پاس آئے اور پوچھا کیا تم ہندی ہو ؟

میں نے کہا: ہاں ۔ مراکشی شیخ نے پوچھا: کیا سیلکوت (سیالکوٹ) کو بھی جانتے ہو ؟

میں نے کہا وہ تو میرا وطن ہے ۔ پھر کیا: مولائے عبد الحکیم سیال کوٹی تمہارے ہم وطن تھے ؟

میں نے کہا: ہاں ۔ یہ کہکر فرط محبت و شوق سے تمام مشائخ یکے بعد دیگرے مجھ سے بغلگیر ہوتے رہے”.۔

ایک بار آپ کا ذکر ہوا تو ہمارے ایک فاضل سٹوڈنٹ مولانا محمد عثمان عارف قادری حفظہ اللہ کہنے لگے:”۔

درس نظامی کا طالب علم ہو اور علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ سے متعارف نہ ہو وہ کیا طالب علم ہی کیا ہے”.۔

مراد یہ تھی کہ دین سے وابستہ تمام حضرات آپ کی شخصیت کو جانتے ضرور ہیں خواہ نام کی حد تک ہو ۔

عبدالحکیم سیالکوٹی بیعت و خلافت

حضرتِ علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی اور حضرتِ امام ربانی مجدد الفِ ثانی علیہما الرحمہ دونوں ہم سبق تھے۔

تحصیلِ علم سے فراغت کے بعد ہر طالب علم اپنے اپنے علاقے میں چلا گیا۔

اس وقت ذرائع ابلاغ میں صرف خط وکتابت کا سلسلہ ہوتا تھا۔

حضرت مجدد اور حضرت علامہ میں زمانۂ طالب علمی کے تیس سال بعد از سر نو تعلقات ہوئے، اس طویل عرصے میں دونوں ہم مکتبوں کی شہرت دور دور تک پہنچ چکی تھی۔

حضرت مجدد احیائے دین اور رد بدعات و مفسدات میں مصروف تھے، تو علامہ سیالکوٹی چراغِ علم سے دلوں کو روشن کر رہے تھے۔

١٠٢٢ھ کا واقعہ ہے کہ مولانا کا ایک شاگرد جو تمام شاگردوں سے لائق ، ذکی اور ذہین تھا ۔

اور مولوی صاحب بھی اسکی رسائیے طبعیت کی وجہ سے اسکو تمام شاگردوں سے عزیز سمجھتے تھے ۔

اتفاقاً ایک مرتبہ متواتر چند یوم تک درس میں نہ آیا ۔ مولوی صاحب نے ایک آدمی خبر کیلئے اور متواتر غیر حاضری کی وجہ دریافت کرنے کیلئے بھیجا ۔

وہ شاگرد اسی وقت حاضر خدمت ہؤا اور کہنے لگا اس مسلسل غیر حاضری کیوجہ یہ تھی کہ چند ورق میرے ہاتھ لگے ہیں

ان کے مطالعہ نے ایسی لذت دی اور ایسا استغراق پیدا کیا ہے کہ کسی اور کتاب کی طرف جی نہی چاہتا ۔ساتھ ہی وہ چند اوراق نکال کر مولوی صاحب کو دیئے اور کہا کہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے ۔

جب مولانا نے ان اوراق کا مطالعہ کیا تو اس میں ایسا کلام درج پایا جسکے علوم و معارف بالکل نئے اور شریعت کے عین مطابق تھے ۔

مولوی صاحب نے پوچھا یہ کس بزرگ کا کلام ہے ۔ایک ایسے شخص نے جو پاس ہی بیٹھا تھا اور سرہند میں حضرت مجدد صاحب کی مجلسوں میں شامل رہ چکا تھا کہا یہ کلام حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کا ہی ہے ۔

اس دن سے مولوی عبد الحکیم کو حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے علوم و معارف کے مطالعہ سے وہ لذت ملی کہ حضرت کی ذاتِ خاص سے آپکو دلی اعتقاد پیدا ہوگیا ۔

١٠٢٣ھ یا ١٠٢٤ھ میں سیالکوٹ سے سرہند حاضر ہوئے، اور بہت دنوں تک سرہند میں رہے، ۔

ظاہری و باطنی علوم کی صحبتیں گرم رہیں۔ اسی ملاقات میں علامہ عبدالحکیم فاضل سیالکوٹی رحمۃ اللّٰہ علیہ حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللّٰه علیہ سے بیعت ہوئے۔

 لقب مجدد الفِ ثانی

 امام ربانی حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللّٰه علیہ کو سب سے پہلے ایک خط میں “مجدد الفِ ثانی” کا لقب علامہ سیالکوٹی نے ہی تحریر کیا تھا۔

محمد الدین فوق مرحوم نے لکھا:”ایک روز حضرتِ قیوم اول کی مجلس میں تمام مرید حاضر تھے ۔

وہاں ذکر چھڑا کہ آنجناب کی تجدید الف اور قیومیت ہم لوگوں پر تو اظہر من الشمس ہے لیکن اگر کوئی عالم جو علمائے عصر میں مرتبہ بلند رکھتا ہو اور جس کی سند کو سب لوگ تسلیم کر لیں اس امر کی تائید کرے تو بہت اچھا ہو ۔

خواجہ ہاشم جو مولانا محمد الہاشم کشمی کے نام سے بھی مشہور ہیں لکھتے ہیں کہ میں نے خود یہ الفاظ اپنی زبان سے حضرت قیوم اول کی خدمت میں عرض کئے ۔

فرمایا: مولوی عبد الحکیم سیالکوٹی کو جانتے ہو آج اہلِ علم میں ان کا کیسا مرتبہ ہے ؟

سب نے بالاتفاق عرض کیا آج معقول و منقول میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ وہ یکتائے زمانہ ہیں ۔

آنجناب نے فرمایا: مولوی صاحب نے میری طرف ایک خط لکھا ہے اسے دیکھو ۔ یہ کہکر وہ خط ان کے آگے رکھا ۔

جب کھولا گیا تو اس میں بہت سے مدحیہ فقرے آنحضرت قیوم اول کے بارہ میں تھے اور انہیں میں یہ الفاظ بھی درج تھے “امام ربانی محبوب سبحانی مجدد الف ثانی” ۔”

بعد ازاں اس لقب کی ایسی شہرت ہوئی کہ صدیاں بیت جانے کےبعد بھی لوگ اسی لقب سے آپ کو جانتے ہیں۔

بلکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مقبول عام خطاب “مجدد الفِ ثانی” کے مقابلے میں ان کے اصل نام “شیخ احمد” سے بہت کم آگاہ ہیں۔

اسی طرح حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللّٰہ علیہ، علامہ سیالکوٹی کے تبحر ِعلمی کے پیش نظر ان کو “آفتابِ پنجاب” کہتے تھے۔

⛔ سوانحات عمر ملک العلماء علامہء عبد الحکیم سیالکوٹی مع تاریخ سیالکوٹ و مشاہیر سیالکوٹ ، ص : ٥ ، ص : ٧ ، ص : ٨ ، ص : ١٠ ، ص : ١٣ ، ص : ١٩ ، ص : ٢٠ ، مطبوعہ ظفر برادرس تاجران کتب ظفر منزل ، لاہور ۔

عبدالحکیم سیالکوٹی سیرت وخصائص

آپ اکابر علماء اور اعاظم فضلائے زمانہ میں سے تھے۔ ظاہری علوم میں فریدالدہر اور باطنی رموز میں وحید العصر تھے۔

آپ نے حضرت شاہ بلاول قادری لاہوری رحمہ اللہ کے ارشاد پر حضرت غوث الاعظم رحمہ اللّٰه کی مشہور کتاب” غنیۃ الطالبین “کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا۔

آپ کو مغل بادشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دربار میں اعلیٰ مقام حاصل تھا۔ بادشاہ کے حکم پر لاہور میں درس قرآن دینا شروع کیا اور علمی و عملی شہرت نے دربارِ مغلیہ میں پہنچا دیا

دربار شاہی میں دوبار چاندی سے تلوایا گیا اور چاندی آپ کو بخش دی گئی وہ آپ نے اپنے شاگردوں میں تقسیم کردی۔

جاگیر عطا ہوئی تو طلبا پر وقف کردی۔ سلطانِ وقت نے ایک لاکھ روپیہ ماہانہ مقرر کیا تو غرباء میں تقسیم کر دیتے تھے۔

مولانا فقیر محمد جہلمی فرماتے ہیں:” مولانا عبدالحکیم سیال کوٹی بڑے عالم فاضل ، فقیہ محدث، مفسر ، خصوصاً علم معقولات میں طاق ، یگانۂ آفاق ، محسود علمائے معقول ہندوستان اور صاحبِ تصانیف عالیہ تھے۔۔۔۔۔۔

جہاں گیر و شاہ جہاں کے دربار میں آپ کی بڑی عزت و توقیر تھی اور آپ شہزادگان کے استاد تھے ۔

چناں چہ شاہ جہاں بادشاہ نے آپ کو دو دفعہ میزان میں تلوایا اور ہر دفعہ چھ چھ ہزار روپیہ دیا۔ آپ کو سیال کوٹ میں سوا لاکھ روپیہ کی جاگیر ملی ہوئی تھی ، جو آپ کی اولاد کے پاس نسل بعد نسل موجود رہی اور اخیر کو گھٹتے گھٹتے اب سرکار انگلشیہ کے عہد میں بہ سبب انقطاع خاندان کے بالکل ضبط ہوگئی۔

بادشاہ کی اجازت سے آپ نے لاہور میں درس جاری کیا اور آپ کے لکھے ہوئے فتاویٰ پر کسی کو علمائے ہند و پنجاب میں سے جائے چون و چرا نہ ہوئی تھی۔

⛔ حدائق الحنفیہ ، حدیقئہ یاز دہم ، رقم الترجمہ: ٧٤٩/٤٢، مولانا عبد الحکیم سیال کوٹی ، ص : ٤٦٧ ، ص : ٤٦٨ ، مطبوعه انوار الاسلام دربار چوک ، چشتیاں شریف ، بہاولنگر ۔

عبدالحکیم سیالکوٹی تصانیف

 تفسیر بیصاوی کے حاشیہ اور تکملہ عبدالغفور کے علاوہ

آپ نے حاشیہ مقدمات تلویح، حاشیہ مطول، شرح مواقف ،

حاشیہ شریفیہ، حاشیہ شرح عقائد تفتازانی ، حاشیہ عقائد دوانیہ، حاشیہ شرح شمسیہ ، حاشیہ شرح مطالع،۔

حاشیہ درة الثمینہ فی اثبات واجب تعالیٰ، حاشیہ شرح ہدایة الحکمة ، حاشيه خیالی ، حاشیہ قطبی ، حواشی ہوامش شرح حکمة العین

اور حاشیہ مراح الارواح وغیرہ آپ کی کمالیت و فضیلت علمی پر شاہد و ناطق اور برہان قاطع ہیں ۔ جو آج تک اساتذہ درس نظامی کےلئے راہنما ہیں۔

⛔ حدائق الحنفیہ ، حدیقئہ یاز دہم ، رقم الترجمہ: ٧٤٩/٤٢، مولانا عبد الحکیم سیال کوٹی ، ص : ٤٦٨ ، مطبوعه انوار الاسلام دربار چوک ، چشتیاں شریف ، بہاولنگر

آفتاب پنجاب حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی

عبدالحکیم سیالکوٹی تاریخِ وصال

آپ 18/ربیع الاول 1067ھ مطابق 3جنوری/1657ءکو واصل باللہ ہوئے۔سیالکوٹ میں مزار مرجعِ خلائق ہے۔

فقیر محمد جہلمی رحمہ اللہ کے مطابق آپکا وصال ١٠٦٨ھ یا ١٠٩٧ھ میں ہوا ۔

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٦/١٢/٢٠٢٣)

 ‏

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment